حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے حوزہ کے ستائیسویں سالانہ ’’کتاب سال‘‘ کانفرنس کے نام اپنے تصویری پیغام میں کہا ہے کہ علمی گہرائی اور بابرکت تصنیفات حوزہ کی کامیابی کی واضح علامت ہیں۔ انہوں نے علما، محققین اور اہل قلم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ علم کی ترویج اور اس کے درست فہم کے لیے مضبوط منطق اور اصولی بنیادیں ناگزیر ہیں۔
آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف علم کو اہمیت دی بلکہ قلم، سیاہی اور تحریر کی قسم کھا کر علم کی عظمت کو نمایاں کیا۔ ان کے بقول یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی معاشرے میں تحقیق، تصنیف اور فکری کاوش بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوزہ اور یونیورسٹی میں جو گہری علمی کتابیں لکھی گئی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ علمی نظام درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی علمی نظام کی مضبوطی کے لیے منطق بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ منطق ہی وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے درست اور غلط، مغالطہ اور استدلال میں فرق کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حوزہ مضبوط اور گہری منطق سے آراستہ ہوگا تو وہ نئے سوالات پیدا کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور بدلتے حالات میں درست رہنمائی فراہم کرنے کے قابل ہوگا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ حوزہ میں مضبوط اور اعلیٰ سطح کی منطق کو وہ مقام نہیں دیا جا رہا جو دیا جانا چاہیے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے فقہ اور اصول کے باہمی تعلق پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ فقہ تک رسائی کا دروازہ اصول ہے اور اصول کی بنیاد منطق پر ہے۔ اگر یہ بنیاد کمزور ہو تو استنباط میں انحراف پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علما کو یہ تشخیص کرنی چاہیے کہ کون سے احکام دائمی اور غیر متغیر ہیں اور کون سے زمان و مکان کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے منطق میں بیان کردہ قضایا کی اقسام—طبیعیہ، خارجیہ اور حقیقیہ—کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ قرآن و حدیث سے اخذ کیے گئے احکام کا صحیح اطلاق کیا جا سکے۔
انہوں نے ادیان کے تاریخی ارتقا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض اصولی حقائق ہمیشہ ثابت رہتے ہیں، جبکہ بعض امور حالات کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔ یہی فرق سمجھے بغیر نہ تو صحیح اجتہاد ممکن ہے اور نہ ہی عصری مسائل کا حل۔
آیت اللہ جوادی آملی نے ’’نظام امامت و امت‘‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی فریضہ صرف تعلیم یا جہالت کا خاتمہ نہیں بلکہ ’’جاہلیت کا خاتمہ‘‘ ہے۔ انہوں نے مغربی دنیا میں جاری مظالم، خصوصاً غزہ کی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض بحران صرف علمی بحث سے حل نہیں ہوتے بلکہ فکری اور تہذیبی اصلاح کے متقاضی ہوتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے اسلامی نظام کی بقا، علما و محققین کی توفیقات اور امت مسلمہ کے استحکام کے لیے دعا کی اور اہل قلم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ علم، عقل اور صحیح رہنمائی کے ذریعے ہی معاشرہ حقیقی پیش رفت کر سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ